بنگلورو،26؍مئی(ایس او نیوز) مرکز میں مودی حکومت کی تین سال کی تکمیل کو وزیر اعلیٰ سدرامیا نے ناکامیوں کا پلندہ قرار دیتے ہوئے کہاکہ ملک کے عوام سے مودی نے جو بلند بانگ دعوے کئے تھے ان میں سے یہ حکومت ایک بھی پورا نہیں کرپائی۔ آج کے پی سی سی دفتر میں اے آئی سی سی جنرل سکریٹری کے سی وینو گوپال ، کے پی سی سی صدر ڈاکٹر جی پرمیشور اور دیگر قائدین کے ہمراہ ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہاکہ لوک سبھا انتخابات کے مرحلے میں بی جے پی نے عوام سے جو وعدے کئے تھے ان کو پورا کرنے میں مودی مکمل طور پر ناکام ہوچکے ہیں ، عوام کو پتہ چل چکا ہے کہ بی جے پی کے لوگ کہتے کچھ ہیں کرتے کچھ اور ہیں۔انہوں نے کہاکہ مودی نے اپنی جوشیلی تقریروں میں عوام کے ذہنوں میں خوابوں کے محل کھڑے کردئے، لیکن تین سال بعد لوگوں کو محسوس ہورہاہے کہ یہ سب کے سب جھوٹے پلندے ہیں۔مودی نے وعدہ کیاتھا کہ ہر سال دو کروڑ بے روزگاروں کو روزگار کے مواقع پیدا کئے جائیں گے ، لیکن تین سال کے دوران پانچ لاکھ روزگار کے مواقع بھی قائم نہیں ہوپائے۔ آدھار، دیہی روزگار ضمانت اسکیم ، جی ایس ٹی وغیرہ کو پچھلی یو پی اے حکومت کی اسکیمیں قرار دیتے ہوئے سدرامیا نے کہاکہ مودی حکومت کی سب سے بڑی کامیابی ان اسکیموں کے نام بدلنا ہے۔پلاننگ کمیشن کا نام بدل کر نیتی آیوگ رکھا گیا۔ اس کی دو تین میٹنگوں میں وہ خود بھی شریک رہے، لیکن کرناٹک کیلئے اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ انہوں نے کہاکہ چودھویں مالیاتی کمیشن کی پالیسوں کے مطابق کرناٹک کیلئے افزود فنڈز کا مطالبہ کیاگیا ، لیکن اس مطالبے کے فوراً بعد مرکزی اسکیموں کیلئے ریاست کو ملنے والے فنڈز میں بھی کٹوتی کردی گئی۔ ملک بھر میں کالے دھن پر روک لگانے اور دہشت گردی و نکسلی سرگرمیوں پر قابو پانے کا دعویٰ کھوکھلا قرار دیتے ہوئے سدرامیا نے کہاکہ نوٹ بندی کے بعد دہشت گردی کہیں نہیں رکی۔ جن لوگوں نے کالا دھن ذخیرہ کرکے رکھاتھا نوٹ بندی کے بعد اس دھن کو سفید کرنے میں ان لوگوں کو اور آسانی ہوگئی۔ اقتدار سنبھالنے سے پہلے مودی میں وعدہ کیاتھاکہ ملک کے باہر جتنا کالا دھن ہے سو دن کے اندر اسے ملک میں واپس لایا جائے گا اور ملک کے ہر شہری کے بینک کھاتے میں پندرہ لاکھ روپے جمع کئے جائیں گے۔پندرہ لاکھ روپے تو دور کی بات کسی شہری کے کھاتے میں پندرہ پیسے بھی جمع نہیں ہوئے۔ ملک میں دلتوں ، اقلیتوں اور پسماندہ طبقات پر حملے عام ہوچکے ہیں۔ کھانے پینے کی چیزوں پر بھی غیر ضروری پابندیاں عائد کی گئی ہیں جس سے سماج میں انتشار بڑھ رہا ہے۔ملک کی مختلف ریاستوں میں فرقہ وارانہ ٹکراؤ کی صورتحال عام ہوچکی ہے، کرناٹک میں سنگین خشک سالی کا تذکرہ کرتے ہوئے سدرامیانے کہاکہ وزیراعظم مودی سے دو مرتبہ ملاقات کرکے ریاست کے وفد نے ان سے امداد کی گذارش کی لیکن مرکزی حکومت نے اس پر کوئی توجہ نہیں دی۔اس معاملے میں ریاست کے بی جے پی قائدین بھی ریاستی حکومت کو کھل کر نشانہ بناتے ہیں لیکن مرکز میں مودی کے سامنے یہ تمام لیڈر چوہے بن کر خاموش کھڑے رہتے ہیں۔ ریاستی بی جے پی صدر یڈیورپا کی دلتوں سے اچانک محبت اور ایک دلت کے گھر میں ہوٹل سے منگوایا گیا کھانا کھانے پر طنز کرتے ہوئے سدرامیا نے کہاکہ ایک دلت کے گھر آپ جاتے ہیں تو اس پر کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہے، لیکن وہاں جاکر اس گھر میں پکا ہوا کھانا کھانے کی بجائے یڈیورپا نے ہوٹل سے اڈلیاں منگواکر کھائیں۔ اس سے ظاہر ہوتاہے کہ دلتوں کے تئیں بی جے پی کے لوگوں کا رویہ کس قدر’’ فراخدلانہ ہے‘‘ ۔ سدرامیا نے کہا کہ لوگوں کو ایک بار بے وقوف بنایا جاسکتاہے بار بار نہیں۔ یڈیورپا لوگوں کوبارہا بے وقوف بنانے کی حماقت کررہے ہیں۔اس موقع پر کے پی سی سی صدر ڈاکٹر جی پرمیشور نے کہاکہ مودی نے ملک کے عوام سے جو وعدے کئے تھے ان میں سے ایک بھی پورا نہیں کیاگیا۔ملک کا معاشی نظام درہم برہم ہوچکا ہے، آئینی ادارے خطرے میں ہیں ، اس سلسلے میں عوامی بیداری لائی جانی چاہئے۔ اس موقع پر مودی حکومت کی 30 ناکامیوں پر مشتمل دستاویزی فلم کی نمائش بھی کی گئی۔